ڈیجیٹل نیٹ ورکنگ کے پوشیدہ نفسیاتی پہلوؤں کو سمجھیں: آپ کی کامیابی کی کنجی

webmaster

디지털 네트워킹의 심리적 요소 이해하기 - **Digital Overload to Peaceful Disconnect**
    *   **Prompt**: A young adult, dressed in comfortabl...

السلام و علیکم دوستو، کیسے ہیں آپ سب؟ امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج کل کی تیز رفتار دنیا میں، جہاں ہر کوئی ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، ہم سب نے ڈیجیٹل نیٹ ورکنگ کا ایک اہم حصہ بننا سیکھ لیا ہے۔ یہ صرف فون یا کمپیوٹر پر کچھ دیر گزارنا نہیں، بلکہ ہماری زندگیوں کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ کس طرح یہ آن لائن تعلقات ہمارے موڈ، ہمارے خیالات اور یہاں تک کہ ہماری روزمرہ کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کبھی یہ ایک نعمت لگتی ہے، جب ہم دور بیٹھے دوستوں سے آسانی سے جڑ جاتے ہیں، اور کبھی ایک بوجھ، جب ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں ہر وقت ‘موجود’ رہنا ہے۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری ڈیجیٹل دنیا میں یہ ‘لائکس’، ‘شیئرز’ اور ‘فالورز’ ہماری نفسیات پر کیا اثر ڈالتے ہیں؟ یا ہم ایک دوسرے سے بات چیت کے دوران لاشعوری طور پر کن نفسیاتی اصولوں پر عمل کر رہے ہوتے ہیں؟ مجھے ایسا لگتا ہے کہ بہت سے لوگ آن لائن کنکشنز کو اصلی دوستی سمجھ لیتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے چھپے نفسیاتی پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانی رویوں کا ایک سمندر ہے جسے گہرائی سے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ ڈیجیٹل تعلقات مزید گہرے اور پیچیدہ ہونے والے ہیں، ایسے میں ان کے نفسیاتی پہلوؤں کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ آئیے، آج ہم انہی نفسیاتی الجھنوں اور ان کے حل پر گہرائی سے بات کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ کیسے ہم ڈیجیٹل دنیا میں ذہنی طور پر صحت مند اور مستحکم رہ سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل تعلقات اور ہمارا دماغ: ڈوپامین کی تلاش

디지털 네트워킹의 심리적 요소 이해하기 - **Digital Overload to Peaceful Disconnect**
    *   **Prompt**: A young adult, dressed in comfortabl...

دوستو، کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جب ہمیں کوئی نوٹیفکیشن آتا ہے یا ہماری پوسٹ پر ‘لائک’ یا ‘کمنٹ’ آتا ہے تو ہمیں جو خوشی محسوس ہوتی ہے، اس کے پیچھے کیا راز ہے؟ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ہمارے دماغ کا ‘انعام’ سسٹم (reward system) ہے جو اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے ہم نے بچپن میں کسی اچھی بات پر انعام ملنے کی امید رکھی ہو۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اس نظام کو اس قدر مؤثر طریقے سے استعمال کیا ہے کہ ہم لاشعوری طور پر ان کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے، ایک بار میں نے ایک پوسٹ شیئر کی اور پھر ہر چند منٹ بعد اپنا فون چیک کر رہا تھا کہ کوئی نوٹیفکیشن آیا کہ نہیں! یہ احساس کہ کسی نے آپ کی بات سنی یا پسند کی، ایک زبردست احساس ہوتا ہے، اور ہمارا دماغ فوراً ڈوپامین (dopamine) نامی کیمیکل جاری کرتا ہے جو خوشی اور اطمینان کا احساس دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار اپنے فون کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک لائک نہیں، یہ ایک چھوٹا سا ڈوپامین کا انجکشن ہے جو ہمیں فوری تسکین فراہم کرتا ہے۔ لیکن کیا یہ مستقل خوشی ہے؟ بالکل نہیں۔ یہ ایک چکرا ہے جو ہمیں ہر وقت مزید کی تلاش میں سرگرداں رکھتا ہے۔

فوری تسکین کی لت

ہماری روزمرہ کی زندگی میں بہت کم چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے تسکین دے سکیں۔ ایک لائک، ایک شیئر، ایک فالو – یہ سب ایک لمحے میں مل جاتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے لوگ کسی بورنگ میٹنگ یا کسی انتظار کے دوران فوراً اپنا فون نکال لیتے ہیں تاکہ اس چھوٹی سی خوشی کی تلاش کر سکیں۔ یہ لت اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ اب ہمیں اس کے بغیر ادھورا پن محسوس ہوتا ہے۔ یہ فوری تسکین ہمیں طویل المدتی اہداف اور حقیقی تعلقات سے دور لے جاتی ہے۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ اسے اب حقیقی زندگی میں لوگوں سے ملنے میں زیادہ مزہ نہیں آتا کیونکہ وہاں ‘فوری انعام’ نہیں ملتا۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو ہماری نفسیات کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر وقت نوٹیفکیشنز کی تلاش میں رہنا ہماری ذہنی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ڈیجیٹل تعلقات کی نفسیات

ڈیجیٹل تعلقات کی نفسیات حقیقی زندگی سے کافی مختلف ہوتی ہے۔ یہاں ہم ایک مخصوص انداز میں پیش آتے ہیں، اپنی زندگی کے روشن پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں اور بعض اوقات حقیقت سے پردہ ڈال دیتے ہیں۔ جب ہم کسی کی ‘مثالی’ زندگی کو دیکھتے ہیں، تو لاشعوری طور پر ہم اپنا موازنہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، اور یہ ہماری خود اعتمادی کو متاثر کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں بھی ایک وقت میں بہت سے لوگوں کی پوسٹس دیکھ کر اپنی زندگی کو کم سمجھنے لگا تھا، حالانکہ حقیقت کچھ اور تھی۔ یہ سب اس ڈوپامین سرکٹ کا حصہ ہے جو ہمیں مزید دیکھنا اور مزید موازنہ کرنا سکھاتا ہے۔ یہ ایک ایسا جال ہے جس سے نکلنا مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آن لائن پر ہر چیز حقیقی نہیں ہوتی، اور ہر ایک اپنی بہترین تصویر پیش کر رہا ہوتا ہے۔

آن لائن پہچان بمقابلہ حقیقی شخصیت: ایک پیچیدہ کھیل

ہم سب آن لائن اپنی ایک الگ پہچان بناتے ہیں، ایک ایسی شخصیت جو ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا “برانڈنگ” ہے جو ہم اپنی ذات کا کرتے ہیں۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی بہترین تصاویر، اپنی سب سے کامیاب کہانیاں اور اپنے سب سے خوشگوار لمحات ہی شیئر کرتے ہیں۔ جو چیزیں ہماری زندگی میں غلط ہو رہی ہوتی ہیں، وہ عموماً اس ڈیجیٹل شو کیس کا حصہ نہیں بن پاتیں۔ یہ ایک بہت ہی پیچیدہ کھیل ہے، جہاں ہم ایک ایسی مثالی زندگی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو شاید مکمل طور پر حقیقی نہ ہو۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک طرح کے نقاب اوڑھے ہوئے ہیں، اور اس نقاب کے پیچھے ہماری حقیقی ذات دب کر رہ جاتی ہے۔ یہ صرف دوسروں کے لیے نہیں، بلکہ خود ہمارے لیے بھی مسائل پیدا کرتا ہے، کیونکہ ہم اپنی آن لائن پہچان اور حقیقی شخصیت کے درمیان توازن قائم نہیں کر پاتے۔ یہ دو زندگیاں جینے جیسا ہے، اور اکثر اوقات یہ تھکا دینے والا ثابت ہوتا ہے۔

تصوراتی زندگی کا دباؤ

جب ہم اپنی آن لائن پہچان کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، تو ایک تصوراتی زندگی جینے کا دباؤ ہمارے اوپر ہمیشہ رہتا ہے۔ میں نے کئی ایسے نوجوانوں کو دیکھا ہے جو اس دباؤ کی وجہ سے مسلسل پریشان رہتے ہیں کہ انہیں سوشل میڈیا پر کیسے نظر آنا چاہیے۔ ایک بار ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ اسے کسی جگہ جانا بھی پسند نہیں آتا اگر وہ وہاں کی خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ نہ کر سکے! یہ تصوراتی زندگی کا دباؤ ہمیں اپنے حقیقی تجربات سے لطف اندوز ہونے سے روکتا ہے۔ ہم لمحہ حال میں جینے کے بجائے، یہ سوچتے رہتے ہیں کہ اس لمحے کو دوسروں کے سامنے کیسے پیش کیا جائے۔ یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو ہماری روح کو تھکا دیتا ہے اور ہمیں اس چھلاوے کے پیچھے بھاگنے پر مجبور کرتا ہے جو کبھی پکڑا نہیں جا سکتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری حقیقی خوشی ہمارے اندر ہے، نہ کہ دوسروں کی تعریف میں۔

اصلی اور نقلی کے درمیان تفاوت

آن لائن ہم جو کچھ دکھاتے ہیں اور حقیقی زندگی میں ہم جو کچھ ہوتے ہیں، ان کے درمیان اکثر ایک بڑا فرق ہوتا ہے۔ یہ تفاوت ہماری ذہنی صحت پر برا اثر ڈالتا ہے۔ جب ہم اپنی آن لائن پہچان کے مطابق نہیں ہوتے، تو ہمیں جھوٹا محسوس ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار ایسا محسوس کیا ہے کہ جب ہم کسی آن لائن دوست سے حقیقی زندگی میں ملتے ہیں، تو ہمیں ایک مختلف شخص ملتا ہے، اور یہ ایک عجیب احساس ہوتا ہے۔ یہ تفاوت ہمیں اپنے آپ سے اور دوسروں سے دور کرتا ہے۔ ہم اپنی خامیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی کمزوریوں کو کسی کے سامنے نہیں آنے دیتے۔ اس کے نتیجے میں، ہم ایسے حقیقی تعلقات قائم نہیں کر پاتے جہاں ہم خود کو پوری طرح قبول کر سکیں۔ سچ کہوں تو یہ ایک قید ہے جس میں ہم خود کو بند کر لیتے ہیں۔

Advertisement

سوشل میڈیا کا دباؤ اور ذہنی صحت

سوشل میڈیا کا ایک پہلو جو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، وہ ہے اس کا ہماری ذہنی صحت پر پڑنے والا گہرا اثر۔ مجھے خود کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں ایک ایسے ریس میں شامل ہوں جہاں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقابلے کی دوڑ میں ہم اپنی خوشیاں اور سکون کھو دیتے ہیں۔ جب ہم دوسروں کی ‘بہترین’ زندگیوں کو دیکھتے ہیں تو لاشعوری طور پر ہمیں اپنی زندگی میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہ موازنہ، یہ حسد، اور یہ خوف کہ ہم کچھ اہم چیز ‘مس’ کر رہے ہیں (FOMO – Fear Of Missing Out)، یہ سب ہماری ذہنی صحت کے لیے زہر بن جاتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے نوجوان جو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں، وہ اضطراب اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہیں ہر وقت یہ فکر رہتی ہے کہ وہ دوسروں کی طرح مقبول کیوں نہیں ہیں یا ان کی زندگی اتنی دلچسپ کیوں نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا دباؤ ہے جو ہم خود اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں۔

موازنہ اور کمتری کا احساس

ہماری فطرت میں ہے کہ ہم خود کو دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا نے اس عمل کو ایک نئے درجے پر پہنچا دیا ہے۔ اب ہم دنیا بھر کے ہزاروں لوگوں سے خود کا موازنہ کرتے ہیں جنہیں ہم ذاتی طور پر جانتے بھی نہیں ہیں۔ یہ ایک غیر حقیقی موازنہ ہوتا ہے کیونکہ ہم صرف ان کے دکھائے گئے مثالی پہلوؤں کو دیکھتے ہیں۔ میرے ایک کزن نے ایک بار کہا تھا کہ وہ جب بھی کسی دوست کی چھٹیوں کی تصویر دیکھتا ہے تو اسے اپنی نوکری اور زندگی سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ یہ کمتری کا احساس ہماری خود اعتمادی کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہر ایک کی زندگی میں مشکلات ہوتی ہیں، اور جو کچھ آن لائن دکھایا جاتا ہے وہ صرف کہانی کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے۔ اس موازنے سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی پر توجہ دیں اور دوسروں کی دکھاوے والی زندگیوں سے متاثر نہ ہوں۔

FOMO (فیئر آف مسنگ آؤٹ) کا بڑھتا ہوا رجحان

FOMO، یعنی “فیئر آف مسنگ آؤٹ”، ڈیجیٹل دور کا ایک بہت بڑا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے ایک پارٹی میں جانے سے انکار کر دیا تھا، لیکن جیسے ہی میں نے سوشل میڈیا پر اپنے دوستوں کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھیں تو مجھے بہت افسوس ہوا کہ میں نے ایک اچھا موقع گنوا دیا۔ یہ احساس کہ دوسروں کے پاس کچھ اچھا ہو رہا ہے اور ہم اس کا حصہ نہیں، بہت پریشان کن ہو سکتا ہے۔ یہ خوف ہمیں ہر وقت آن لائن رہنے پر مجبور کرتا ہے تاکہ ہم کچھ بھی ‘مس’ نہ کر سکیں۔ اس کے نتیجے میں، ہم آرام کرنے اور اپنی ذاتی زندگی سے لطف اندوز ہونے کے بجائے، مسلسل دوسروں کی زندگیوں پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ ہماری نیند کو متاثر کرتا ہے، ہماری توجہ کو منتشر کرتا ہے، اور ہمیں حقیقی سکون سے محروم رکھتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ترجیحات طے کریں اور اس بات کو قبول کریں کہ ہم ہر چیز کا حصہ نہیں بن سکتے، اور یہ ٹھیک ہے۔

ڈیجیٹل تھکن اور معلومات کا سیلاب

کیا آپ نے کبھی دن کے آخر میں ایسا محسوس کیا ہے کہ آپ کا دماغ بالکل تھک چکا ہے، جیسے آپ نے دن بھر کوئی بہت ہی مشکل ذہنی کام کیا ہو، حالانکہ آپ صرف فون استعمال کر رہے تھے؟ اسے ڈیجیٹل تھکن کہتے ہیں۔ میں نے خود کئی بار محسوس کیا ہے کہ جب میں بہت زیادہ خبریں یا سوشل میڈیا فیڈز دیکھ لیتا ہوں تو میرا دماغ بہت بھاری ہو جاتا ہے۔ یہ معلومات کا سیلاب ہے جو ہر وقت ہماری طرف آ رہا ہوتا ہے۔ ای میلز، نوٹیفکیشنز، نیوز اپڈیٹس، میسیجز – یہ سب ہمارے دماغ پر ایک بوجھ ڈالتے ہیں۔ ہمارے دماغ کو اتنی زیادہ معلومات پروسیس کرنے کی عادت نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ہم ذہنی طور پر تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ یہ تھکن صرف دماغی نہیں ہوتی، بلکہ جسمانی بھی ہو سکتی ہے۔ سر درد، آنکھوں میں درد، اور چڑچڑاپن بھی اس کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے بغیر کسی وقفے کے کئی گھنٹے آن لائن کام کیا اور شام کو ایسا محسوس ہوا جیسے میری توانائی بالکل ختم ہو گئی ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک اہم اشارہ ہے کہ ہمیں اپنی ڈیجیٹل عادات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

مسلسل نوٹیفکیشنز کا شور

ہمارے فون پر مسلسل آنے والے نوٹیفکیشنز ایک مستقل شور پیدا کرتے ہیں جو ہماری توجہ کو منتشر کرتا ہے۔ یہ بار بار کی مداخلت ہمیں کسی بھی کام پر مکمل توجہ دینے سے روکتی ہے۔ میں نے ایک بار یہ تجربہ کیا کہ میں اپنے فون کے تمام نوٹیفکیشنز بند کر کے کام کروں، اور حیرت انگیز طور پر میری کارکردگی میں بہتری آئی۔ یہ مسلسل شور ہمیں کبھی بھی مکمل طور پر پرسکون نہیں ہونے دیتا۔ ہر نوٹیفکیشن ایک طرح سے ہمارے دماغ کو ایک چھوٹا سا جھٹکا دیتا ہے، اور یہ چھوٹے چھوٹے جھٹکے دن بھر میں جمع ہو کر ہمیں تھکا دیتے ہیں۔ ہمیں اس شور کو کنٹرول کرنا سیکھنا ہوگا ورنہ یہ ہماری ذہنی سکون کو چھین لے گا۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے نوٹیفکیشنز کو سمجھداری سے منظم کریں تاکہ ہم اپنے کام اور آرام کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔

ڈیجیٹل ڈیٹوکس کی اہمیت

اس ڈیجیٹل تھکن سے بچنے کا ایک مؤثر طریقہ ڈیجیٹل ڈیٹوکس ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ وقت کے لیے ہم اپنی تمام ڈیجیٹل ڈیوائسز سے مکمل طور پر دور رہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک بار ایک ہفتے کا ڈیجیٹل ڈیٹوکس کیا تھا اور اس دوران میں نے قدرت کے ساتھ وقت گزارا، کتابیں پڑھیں، اور اپنے خاندان کے ساتھ گہری گفتگو کی۔ اس کے بعد میں نے خود کو زیادہ تازہ دم اور پرسکون محسوس کیا۔ ڈیجیٹل ڈیٹوکس ہمارے دماغ کو آرام کرنے اور خود کو ری چارج کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی حقیقی ترجیحات پر توجہ دینے میں مدد کرتا ہے اور ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی میں صرف اسکرین کے پیچھے کی دنیا ہی سب کچھ نہیں ہے۔ یہ نہ صرف ہماری ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ ہماری تخلیقی صلاحیتوں اور جسمانی صحت کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ ہر کسی کو باقاعدگی سے یہ ڈیٹوکس کرنا چاہیے۔

Advertisement

حقیقی روابط کی اہمیت اور ورچوئل دنیا

ڈیجیٹل دنیا میں ہم ہزاروں لوگوں سے جڑ سکتے ہیں، لیکن کیا یہ روابط واقعی گہرے اور بامقصد ہوتے ہیں؟ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ آن لائن روابط سطحی ہوتے ہیں، جہاں ہم ایک دوسرے کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے ایک فیس بک پر ہزاروں دوست تھے، لیکن جب مجھے مدد کی ضرورت پڑی تو چند حقیقی دوست ہی میرے ساتھ کھڑے تھے جن سے میری ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ حقیقی روابط میں گرمجوشی، گہرائی، اور باہمی اعتماد ہوتا ہے جو آن لائن تعلقات میں بہت کم ملتا ہے۔ یہ تعلقات ہماری نفسیاتی اور جذباتی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔ یہ ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ ہم اکیلے نہیں ہیں، ہمارے پاس کوئی ہے جو ہماری بات سنتا ہے اور ہماری پرواہ کرتا ہے۔ ورچوئل دنیا میں ہم آسانی سے اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں، لیکن اس اظہار میں وہ گہرائی اور اصلیت نہیں ہوتی جو حقیقی انسانی رابطے میں ہوتی ہے۔

گہرے تعلقات کی کمی

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہم آسانی سے نئے لوگوں سے مل سکتے ہیں، لیکن ان تعلقات میں گہرائی پیدا کرنا ایک چیلنج ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم زیادہ تر آن لائن لوگوں سے صرف ان کی خوبصورت تصاویر یا کامیاب پوسٹس کے ذریعے ہی جڑتے ہیں۔ ان کے دکھ، ان کی مشکلات، ان کی حقیقی زندگی کی کہانیاں عموماً ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ یہ گہرے تعلقات کی کمی ہمیں جذباتی طور پر تنہا کر سکتی ہے۔ ہم بہت سے لوگوں سے جڑے ہوئے محسوس کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم اکیلے ہوتے ہیں۔ انسان کو گہرے، با معنی اور قابل بھروسہ تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ جذباتی طور پر مستحکم رہ سکے۔ مجھے ذاتی طور پر ایسے ایک یا دو حقیقی دوست بہت عزیز ہیں جو ہر وقت میرے ساتھ کھڑے رہتے ہیں، بجائے اس کے کہ میرے پاس ہزاروں آن لائن ‘فالورز’ ہوں۔ اس لیے، ہمیں اپنے حقیقی روابط کو ترجیح دینی چاہیے۔

آمنے سامنے ملاقاتوں کا جادو

디지털 네트워킹의 심리적 요소 이해하기 - **The Two Faces of Online Identity**
    *   **Prompt**: A compelling image featuring a young person...

آن لائن بات چیت اپنی جگہ، لیکن آمنے سامنے ملاقاتوں کا اپنا ہی جادو ہے۔ جب ہم کسی سے ملتے ہیں تو ہم ان کے چہرے کے تاثرات، ان کی باڈی لینگویج، اور ان کی آواز کے لہجے کو محسوس کر سکتے ہیں، جو آن لائن ممکن نہیں۔ یہ چیزیں ہمیں ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد کرتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک آن لائن دوست سے میں نے پہلی بار حقیقی زندگی میں ملاقات کی تھی، اور اس ملاقات نے ہمارے تعلق کو ایک نئی گہرائی دی تھی۔ ہم ہنسے، ہم نے کہانیاں شیئر کیں، اور وہ احساس آن لائن بات چیت سے کہیں زیادہ اطمینان بخش تھا۔ آمنے سامنے کی ملاقاتیں ہماری ذہنی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہوتی ہیں، کیونکہ وہ ہمیں حقیقی انسانی تعلق کا احساس دلاتی ہیں۔ یہ احساس کہ ہم کسی کے ساتھ جسمانی طور پر موجود ہیں، ہمارے اندر ایک سکون پیدا کرتا ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں ممکن نہیں۔

مثبت ڈیجیٹل عادات کیسے اپنائیں؟

ان تمام نفسیاتی چیلنجز کے باوجود، ڈیجیٹل دنیا سے مکمل طور پر کٹ جانا ممکن نہیں اور شاید ضروری بھی نہیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم کیسے ایک صحت مند اور مثبت ڈیجیٹل زندگی گزاریں۔ میں نے اپنی زندگی میں کچھ ایسی عادات اپنائی ہیں جنہوں نے مجھے اسکرین ٹائم کو بہتر طریقے سے منظم کرنے میں مدد کی ہے۔ یہ صرف فون کم استعمال کرنے کی بات نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ ہم کیسے اپنے وقت کو سمجھداری سے استعمال کریں اور آن لائن رہتے ہوئے بھی اپنی ذہنی صحت کو برقرار رکھیں۔ یہ میری طرف سے کچھ مشورے ہیں جو میں نے خود پر آزما کر دیکھے ہیں اور ان سے مجھے بہت فائدہ ہوا ہے۔ ان عادات کو اپنا کر آپ بھی ڈیجیٹل دنیا کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جبکہ اس کے منفی اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی ایک آلہ ہے، اور اس کا استعمال کیسے کرنا ہے، یہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

اسکرین ٹائم کا شعوری استعمال

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے اسکرین ٹائم کا شعوری استعمال کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جان بوجھ کر یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں کون سی ایپ پر کتنا وقت گزارنا ہے اور کس مقصد کے لیے۔ میں نے خود اپنے فون میں ‘اسکرین ٹائم’ کے فیچر کو استعمال کرنا شروع کیا ہے اور اس سے مجھے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ میں اپنا وقت کہاں صرف کر رہا ہوں۔ جب مجھے یہ ڈیٹا نظر آتا ہے تو میں خود بخود اپنی عادات کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہم سب کو ایک وقت کی حد مقرر کرنی چاہیے کہ ہم کتنا وقت سوشل میڈیا یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گزاریں گے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ سے ایماندار رہیں اور اس حد کا احترام کریں۔ رات کو سونے سے ایک گھنٹہ پہلے فون کو دور رکھ دینا میری ایک بہترین عادت بن چکی ہے جس سے میری نیند کی کوالٹی بہت بہتر ہوئی ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی ہے لیکن اس کے اثرات بہت بڑے ہیں۔

ڈیجیٹل حدود کا تعین

ڈیجیٹل دنیا میں اپنی حدود کا تعین کرنا بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں کہ کون سے اوقات میں ہم آن لائن رہیں گے اور کون سے اوقات میں نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ خاندان کے ساتھ یا دوستوں کے ساتھ کھانا کھاتے وقت فون کو دور رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ آپ کو موجودہ لمحے میں جینے کا موقع دیتا ہے۔ اسی طرح، کام کے دوران بار بار فون چیک کرنے سے بھی بچنا چاہیے۔ یہ چھوٹی چھوٹی حدود نہ صرف ہماری توجہ کو بہتر بناتی ہیں بلکہ ہمارے تعلقات کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔ جب ہم کسی سے بات کر رہے ہوں اور ہمارا فون ہمارے ہاتھ میں ہو، تو ہم دراصل ان کی بے عزتی کر رہے ہوتے ہیں۔ میری رائے میں، اپنے نوٹیفکیشنز کو بند رکھنا اور صرف مخصوص اوقات میں ہی انہیں چیک کرنا ایک بہترین عادت ہے۔ یہ ہمیں ڈیجیٹل غلامی سے آزاد کرتا ہے۔

مثبت ڈیجیٹل رویے

ہمیں ڈیجیٹل دنیا میں مثبت رویے اپنانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم آن لائن بھی احترام، ہمدردی، اور مثبت انداز میں بات چیت کریں۔ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے یا منفی تبصرے کرنے سے گریز کریں۔ میں ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہوں کہ اگر مجھے کسی پوسٹ پر کوئی اعتراض بھی ہو تو میں اسے مثبت انداز میں پیش کروں یا پھر خاموش رہوں۔ یاد رکھیں، آپ کے الفاظ آن لائن بھی اتنے ہی طاقتور ہوتے ہیں جتنے کہ حقیقی زندگی میں۔ دوسروں کی کامیابیوں کو سراہنا اور انہیں حوصلہ دینا ایک بہترین عادت ہے۔ یہ نہ صرف دوسروں کو اچھا محسوس کرواتا ہے بلکہ آپ کو بھی مثبت توانائی فراہم کرتا ہے۔ آخر میں، یہ ٹیکنالوجی ہمیں ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے ہے، نہ کہ تقسیم کرنے کے لیے۔

Advertisement

سائبر بُلیئنگ اور منفی اثرات سے بچاؤ

جس طرح سے ڈیجیٹل دنیا ہمیں جڑنے کے مواقع فراہم کرتی ہے، اسی طرح اس میں کچھ تاریک پہلو بھی ہیں۔ سائبر بُلیئنگ (Cyberbullying) انہی میں سے ایک ہے، جو ایک خوفناک حقیقت بن چکی ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوتا ہے جب میں یہ سنتا ہوں کہ کس طرح لوگ آن لائن ایک دوسرے کو ہراساں کرتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں، یا ان کی تضحیک کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی لعنت ہے جو متاثرہ شخص کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ میرے ایک جاننے والے نے بتایا کہ اسے سوشل میڈیا پر مسلسل تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا جاتا تھا جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن میں چلا گیا اور اسے اپنی آن لائن سرگرمیاں بند کرنی پڑیں۔ یہ صرف بچوں اور نوجوانوں تک محدود نہیں، بلکہ بڑوں میں بھی عام ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آن لائن دیے گئے الفاظ اور کیے گئے اقدامات حقیقی زندگی میں درد پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں نہ صرف سائبر بُلیئنگ سے بچنا چاہیے بلکہ اگر ہم اسے دیکھیں تو اس کے خلاف آواز بھی اٹھانی چاہیے۔

سائبر بُلیئنگ کا مقابلہ کیسے کریں؟

سائبر بُلیئنگ کا مقابلہ کرنا آسان نہیں، لیکن اس سے بچنے اور اسے روکنے کے طریقے موجود ہیں۔ سب سے پہلے، اگر آپ سائبر بُلیئنگ کا شکار ہوتے ہیں، تو اسے خاموشی سے برداشت نہ کریں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میرے ایک دوست کے ساتھ ایسا ہوا تو اس نے اپنے والدین اور اسکول انتظامیہ سے بات کی اور انہیں اس صورتحال سے آگاہ کیا۔ مدد طلب کرنا کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ ہوشیاری ہے۔ دوسرا، ثبوت جمع کریں۔ تمام پیغامات، تصاویر، یا ویڈیوز کو محفوظ کریں جو آپ کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ یہ ثبوت بعد میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تیسرا، بلاک کریں اور رپورٹ کریں۔ اگر کوئی آپ کو مسلسل پریشان کر رہا ہے تو اسے بلاک کریں اور اس پلیٹ فارم کو رپورٹ کریں۔ بیشتر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے پاس ایسے میکانزم موجود ہیں جو آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات، اپنی عزت نفس کو متاثر نہ ہونے دیں۔ یاد رکھیں، جو لوگ آپ کو ہراساں کرتے ہیں وہ آپ کی قیمت کا تعین نہیں کر سکتے۔

آن لائن حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر

سائبر بُلیئنگ اور دیگر منفی اثرات سے بچنے کے لیے ہمیں کچھ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنی چاہئیں۔ سب سے پہلے، اپنی پرائیویسی سیٹنگز کو ہمیشہ چیک کریں اور یقینی بنائیں کہ آپ کا مواد صرف ان لوگوں کے لیے قابل رسائی ہو جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ اپنی پرائیویسی سیٹنگز کو بالکل بھی چیک نہیں کرتے۔ دوسرا، آن لائن اجنبیوں سے محتاط رہیں۔ ہر کسی پر آسانی سے بھروسہ نہ کریں، خاص طور پر اگر وہ آپ سے ذاتی معلومات طلب کریں۔ میں ہمیشہ یہی مشورہ دیتا ہوں کہ کسی بھی شخص سے ملنے سے پہلے اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں۔ تیسرا، مضبوط پاس ورڈز استعمال کریں اور انہیں باقاعدگی سے تبدیل کریں۔ اور آخر میں، اگر آپ کو کوئی چیز آن لائن عجیب یا مشکوک لگتی ہے، تو اس پر کلک نہ کریں یا اس کا جواب نہ دیں۔ اپنی آن لائن موجودگی کے بارے میں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں ہمیں خود اپنی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں صحت مند رہنے کے لیے نکات تفصیل
اسکرین ٹائم محدود کریں دن میں مخصوص اوقات طے کریں جب آپ ڈیجیٹل ڈیوائسز استعمال کریں گے۔
ڈیجیٹل ڈیٹوکس کریں باقاعدگی سے کچھ وقت کے لیے تمام ڈیجیٹل ڈیوائسز سے دور رہیں۔
پرائیویسی سیٹنگز چیک کریں اپنی آن لائن معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے سیٹنگز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کریں۔
حقیقی روابط کو ترجیح دیں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ آمنے سامنے وقت گزارنے کو اہمیت دیں۔
آن لائن احترام سے پیش آئیں مثبت رویہ اپنائیں اور منفی تبصروں سے گریز کریں۔
اپنے جذبات کو سمجھیں آن لائن سرگرمیوں کے دوران اپنے ذہنی اور جذباتی ردعمل پر غور کریں۔
مدد طلب کرنے سے نہ گھبرائیں اگر آپ سائبر بُلیئنگ یا کسی اور مسئلے کا شکار ہوں تو کسی قابل اعتماد شخص سے بات کریں۔

ذہن اور جسم کا توازن: ایک خوشگوار ڈیجیٹل زندگی

آخر میں، دوستو، یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہماری ڈیجیٹل زندگی ہماری حقیقی زندگی کا ایک حصہ ہے، لیکن یہ ہماری پوری زندگی نہیں ہے۔ ہمیں اپنے ذہن اور جسم کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ ہم ایک خوشگوار اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔ میں نے یہ بات گہرائی سے محسوس کی ہے کہ جب ہم صرف آن لائن دنیا میں گم رہتے ہیں تو ہم اپنی جسمانی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں، اور ذہنی طور پر بھی ہم کبھی مکمل طور پر پرسکون نہیں ہو پاتے۔ ہمیں باہر نکلنا چاہیے، تازہ ہوا میں سانس لینی چاہیے، ورزش کرنی چاہیے، اور اپنے اردگرد کی خوبصورتی کو محسوس کرنا چاہیے۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں ہماری زندگی میں بہت بڑا مثبت فرق پیدا کرتی ہیں۔ یاد رکھیں، انسان ایک سماجی مخلوق ہے جسے حقیقی انسانی رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور کوئی بھی ورچوئل دنیا ان تعلقات کی جگہ نہیں لے سکتی۔

ذہنیت میں تبدیلی

اس سب کا آغاز ہماری ذہنیت میں تبدیلی سے ہوتا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ڈیجیٹل دنیا کے غلام نہیں، بلکہ اس کے مالک ہیں۔ میں نے یہ سیکھا ہے کہ ہمیں ٹیکنالوجی کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ اسے خود پر حاوی ہونے دینا چاہیے۔ یہ ذہنیت میں تبدیلی ہمیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو زیادہ شعوری اور مقصدیت کے ساتھ استعمال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کہ کب آن لائن جانا ہے اور کب آف لائن۔ اپنی زندگی میں ایک واضح مقصد رکھیں اور اپنے ڈیجیٹل استعمال کو اس مقصد کے حصول کے لیے استعمال کریں۔ اگر کوئی ایپ یا پلیٹ فارم آپ کی ذہنی صحت کو متاثر کر رہا ہے تو اسے چھوڑنے میں ہچکچائیں نہیں۔ آپ کی ذہنی صحت سب سے زیادہ اہم ہے۔

مستقبل کے لیے تیار رہنا

ڈیجیٹل دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور ہمیں اس کے ساتھ ساتھ تیار رہنا ہوگا۔ نئی ٹیکنالوجیز آئیں گی، اور ان کے نئے نفسیاتی اثرات ہوں گے۔ ہمیں ان تبدیلیوں کو سمجھنا ہوگا اور ان سے مثبت انداز میں نمٹنے کے طریقے سیکھنے ہوں گے۔ میں ہمیشہ نئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کے ممکنہ منفی اثرات پر بھی نظر رکھتا ہوں۔ اپنے آپ کو باخبر رکھیں، لیکن معلومات کے سیلاب میں نہ بہہ جائیں۔ اپنے بچوں اور نوجوانوں کو بھی ڈیجیٹل دنیا کے چیلنجز اور مواقع کے بارے میں تعلیم دیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند ڈیجیٹل ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مطمئن محسوس کر سکیں۔ آخر میں، ایک خوشگوار اور متوازن ڈیجیٹل زندگی ممکن ہے، بس تھوڑی سی کوشش اور سمجھداری کی ضرورت ہے۔

Advertisement

آخر میں چند باتیں

میرے عزیز دوستو، آج ہم نے ڈیجیٹل دنیا کے ان پہلوؤں پر بات کی جو ہماری زندگیوں کو گہرا متاثر کرتے ہیں۔ میں نے خود ان تمام احساسات اور چیلنجز کا سامنا کیا ہے، اور میرے تجربے میں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم شعوری طور پر اپنے ڈیجیٹل استعمال کو کنٹرول کریں۔ یہ صرف ایک ٹول ہے، اور اس کا مثبت یا منفی استعمال مکمل طور پر ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی خوشی، سکون اور تعلقات اسکرین کے پیچھے نہیں بلکہ ہمارے آس پاس کی دنیا میں موجود ہیں۔ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو ترجیح دیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹیکنالوجی آپ کو بہتر بنائے، نہ کہ پریشان کرے۔ آئیے، ایک متوازن اور خوشگوار ڈیجیٹل زندگی کی طرف قدم بڑھائیں!

جاننے کے لیے مفید معلومات

1. اپنے روزانہ کے اسکرین ٹائم کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور ضرورت کے مطابق اسے محدود کرنے کی کوشش کریں تاکہ آن لائن دنیا کی بے پناہ معلومات اور مسلسل نوٹیفکیشنز آپ کی توجہ کو منتشر نہ کر سکیں. یہ آپ کو اپنے کام اور دیگر اہم سرگرمیوں پر زیادہ بہتر طریقے سے توجہ مرکوز کرنے میں مدد دے گا۔

2. ہفتے میں ایک بار یا مہینے میں ایک بار ڈیجیٹل ڈیٹوکس کا منصوبہ بنائیں، جہاں آپ کچھ گھنٹوں یا پورے دن کے لیے تمام ڈیجیٹل ڈیوائسز سے مکمل دوری اختیار کریں۔ اس دوران آپ فطرت کے قریب جا سکتے ہیں، اپنی پسندیدہ کتاب پڑھ سکتے ہیں، یا اپنے پیاروں کے ساتھ معیاری وقت گزار سکتے ہیں۔ یہ آپ کے دماغ کو آرام پہنچائے گا اور آپ کو نئے سرے سے توانائی بخشے گا۔

3. اپنی آن لائن پرائیویسی سیٹنگز کو ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھیں اور محتاط رہیں کہ آپ کون سی ذاتی معلومات آن لائن شیئر کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں، ایک بار جو معلومات انٹرنیٹ پر چلی جائے، اس پر آپ کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ نامعلوم لنکس پر کلک کرنے یا اجنبیوں سے ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔

4. حقیقی زندگی کے تعلقات کو آن لائن تعلقات پر فوقیت دیں۔ اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ آمنے سامنے وقت گزارنے کو اہمیت دیں، کیونکہ یہ تعلقات ہی آپ کی ذہنی اور جذباتی صحت کے لیے بنیادی ستون ہیں۔ ایک حقیقی انسانی مسکراہٹ اور بات چیت کسی بھی لائک یا کمنٹ سے زیادہ قیمتی ہے۔

5. آن لائن پلیٹ فارمز پر ہمیشہ مثبت اور تعمیری رویہ اپنائیں۔ دوسروں پر تنقید کرنے یا منفی تبصرے کرنے سے گریز کریں، اور یاد رکھیں کہ آپ کے الفاظ کی بھی ایک قیمت ہے۔ دوسروں کی کامیابیوں کو سراہنا اور حوصلہ دینا نہ صرف انہیں خوش کرتا ہے بلکہ آپ کے اپنے اندر بھی مثبت توانائی پیدا کرتا ہے، جس سے ایک صحت مند آن لائن کمیونٹی تشکیل پاتی ہے۔

Advertisement

اہم نکات کا خلاصہ

آج کی بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا ہمارے دماغ میں ڈوپامین کے نظام کو متحرک کرتی ہے، جس سے فوری تسکین ملتی ہے، لیکن یہ لت بن سکتی ہے۔ ہماری آن لائن پہچان اور حقیقی شخصیت میں تفاوت ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ سوشل میڈیا کا موازنہ اور FOMO کمتری اور اضطراب کو بڑھاتے ہیں۔ معلومات کا سیلاب اور مسلسل نوٹیفکیشنز ڈیجیٹل تھکن کا سبب بنتے ہیں۔ حقیقی انسانی روابط کی کمی اور ورچوئل تعلقات کی سطحی نوعیت جذباتی تنہائی کو جنم دیتی ہے۔ اس کے حل کے لیے ہمیں شعوری طور پر اسکرین ٹائم کا استعمال کرنا، ڈیجیٹل حدود کا تعین کرنا، مثبت ڈیجیٹل رویے اپنانا، اور سائبر بُلیئنگ سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں۔ ذہن اور جسم کا توازن، ایک مثبت ذہنیت اور مستقبل کے لیے تیاری ہمیں ایک خوشگوار اور صحت مند ڈیجیٹل زندگی گزارنے میں مدد دے گی۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: ہماری خود اعتمادی اور ذہنی صحت پر ڈیجیٹل “لائکس” اور کمنٹس کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟

ج: دوستو، یہ سوال آج کل ہر کسی کے ذہن میں گھومتا ہے، اور میں نے خود بھی اس پر بہت سوچا ہے۔ آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا کہ جب آپ اپنی کوئی تصویر یا پوسٹ شیئر کرتے ہیں اور اس پر بہت سارے لائکس اور پیارے کمنٹس آتے ہیں تو ایک لمحے کے لیے دل کتنا خوش ہو جاتا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے دنیا فتح کر لی ہو۔ یہ ایک عارضی خوشی ہے جو ہمارے دماغ میں ڈوپامائن کے اخراج کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لیکن، سچ کہوں تو یہ احساس زیادہ دیر نہیں رہتا۔ میں نے اپنے تجربے سے سیکھا ہے کہ یہ ‘لائکس’ اور ‘کمنٹس’ ہمیں باہر کی دنیا سے توثیق (validation) حاصل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جب ہمیں توقع کے مطابق لائکس نہیں ملتے یا جب ہم دوسروں کی “کامل” زندگیوں کو دیکھتے ہیں جو سوشل میڈیا پر دکھائی جاتی ہیں، تو جانے انجانے میں ہم خود کو ان سے موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ یہ چیز آہستہ آہستہ ہماری خود اعتمادی کو کمزور کرتی ہے اور ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم کافی نہیں ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں اسی چکر میں پڑ کر بے چینی اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی قدر اپنی اندرونی خوبیوں میں تلاش کریں، نہ کہ باہر کی دنیا کی مصنوعی توثیق میں۔ آپ جیسے ہیں، بہترین ہیں۔

س: کیا آن لائن دوستیاں حقیقی زندگی کے تعلقات کی جگہ لے سکتی ہیں، اور ان کے نفسیاتی فرق کیا ہیں؟

ج: یہ ایک بہت اہم سوال ہے جس پر ہم سب کو غور کرنا چاہیے۔ میں نے ذاتی طور پر یہ محسوس کیا ہے کہ آن لائن دنیا میں سینکڑوں “دوست” ہونے کے باوجود، ہم میں سے بہت سے لوگ تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ آن لائن تعلقات ایک حد تک فائدہ مند ضرور ہیں، خاص طور پر جب ہم اپنے سے دور بیٹھے دوستوں یا رشتہ داروں سے جڑنا چاہتے ہوں۔ لیکن، کیا یہ حقیقی زندگی کے تعلقات کا متبادل ہو سکتے ہیں؟ میرے خیال میں نہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ ان کے نفسیاتی فرق ہیں۔ حقیقی زندگی کی دوستیوں میں جسمانی موجودگی، غیر زبانی اشارے (body language)، ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنا، ایک ساتھ وقت گزارنا اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا شامل ہوتا ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو آن لائن تعلقات میں تقریباً ناممکن ہیں۔ آن لائن دنیا میں ہم صرف کسی کے ایک منتخب پہلو کو دیکھتے ہیں، جسے وہ خود دکھانا چاہتے ہیں۔ اس میں گہرائی، اعتماد اور وہ جذباتی قربت نہیں ہوتی جو حقیقی تعلقات میں ہوتی ہے۔ میں نے خود کئی بار محسوس کیا ہے کہ جب میں کسی آن لائن دوست سے حقیقت میں ملا، تو وہ تصور سے بالکل مختلف تھا۔ لہٰذا، میرا مشورہ ہے کہ آن لائن رابطوں کو برقرار رکھیں، لیکن حقیقی زندگی کے رشتوں کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔ وہی ہماری اصل طاقت اور سکون کا ذریعہ ہیں۔

س: ڈیجیٹل دنیا میں رہتے ہوئے ہم اپنی ذہنی صحت کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

ج: یہ آج کے دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور میں اس پر کافی عرصے سے تحقیق کر رہا ہوں۔ ڈیجیٹل دنیا سے مکمل طور پر کٹ جانا ممکن نہیں، لیکن ہم اپنی ذہنی صحت کو بچانے کے لیے کچھ عملی قدم ضرور اٹھا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، میں نے خود یہ طریقہ اپنایا ہے کہ اپنے لیے ‘ڈیجیٹل حدود’ مقرر کریں۔ یعنی، ایک خاص وقت کے بعد سوشل میڈیا اور فون کا استعمال بند کر دیں۔ مثلاً، رات کو سونے سے ایک گھنٹہ پہلے فون کو دور رکھ دیں اور کوئی کتاب پڑھیں یا اپنے پیاروں سے بات چیت کریں۔ دوسرا، اپنے مواد کے استعمال پر نظر رکھیں۔ میں ہمیشہ مشورہ دیتا ہوں کہ ان اکاؤنٹس کو “ان فالو” کریں جو آپ میں منفی جذبات پیدا کرتے ہیں یا آپ کو خود سے موازنہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اپنی نیوز فیڈ کو مثبت اور حوصلہ افزا مواد سے بھریں۔ تیسرا، حقیقی زندگی کی سرگرمیوں کو ترجیح دیں۔ پارک میں چہل قدمی کریں، دوستوں کے ساتھ کافی پینے جائیں، یا کوئی نیا مشغلہ اپنائیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ جب میں اصلی دنیا میں وقت گزارتا ہوں تو مجھے ذہنی سکون زیادہ ملتا ہے۔ آخر میں، اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کو ڈیجیٹل دنیا کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ ہے، تو کسی ماہر سے مشورہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ آپ کی ذہنی صحت سب سے قیمتی ہے۔